حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مرکزی میں ولی فقیہ کے نمائندے آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے اپنے درس خارج میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے بہت سے بحرانوں اور فتنوں کی جڑ ایسے فیصلے اور انحرافات ہیں جن کے اثرات آنے والی نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا خطبہ تاریخی، سیاسی اور سماجی اسباق سے بھرپور ہے۔ آپ نے اسلام کے صحیح راستے سے انحراف کے نتائج کو واضح کیا اور بتایا کہ ایسے انحرافات کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ میں ظاہر ہوتے ہیں۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے عالم اسلام کی وحدت اور حقیقی عزت کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کو اپنے مسائل اور مشکلات اندرونی صلاحیتوں، عقل مندی، اتحاد اور اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر حل کرنے چاہئیں اور امن و سکون کے راستے پر آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے معاشرے کی بنیادیں درست رکھنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں رکھی جانے والی بنیادوں کے نتائج مستقبل میں سامنے آتے ہیں۔ اگر کسی نظام اور معاشرے کی بنیادیں درست نہ ہوں تو اس کے منفی اثرات موجودہ نسل کے ساتھ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
ولایت سے انحراف بحرانوں کا سبب
آیت اللہ دری نجف آبادی نے اسلامی نظام میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے مقام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبے کا ایک اہم پیغام رسالت کے راستے سے انحراف اور معاشرے کی رہنمائی کے اصل محور کو نظر انداز کرنے کے نتائج سے خبردار کرنا ہے۔
بنی صدر کے واقعے سے تاریخی سبق
انہوں نے ایران کے سابق صدر ابوالحسن بنی صدر کی صدارت کا ذکر کرتے ہوئے اسے سیاسی اختلافات اور انقلاب اسلامی کے راستے سے دوری کے نتائج کی ایک مثال قرار دیا
انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے ابتدائی برسوں میں امام خمینیؒ کی رہنمائی اور نگرانی کے باوجود، شہید بہشتی اور شہید رجائی جیسی شخصیات کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بنی صدر کے اختلافات اور طرز عمل نے سیاسی بحرانوں کو جنم دیا۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے 14 اسفند 1359 ہجری شمسی کو تہران یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بنی صدر کے رویے اور موقف کے باعث سیاسی ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی اور اختلافات بتدریج بڑھتے گئے۔ بالآخر 1360 ہجری شمسی میں ملک کی سیاسی صورت حال نے نیا رخ اختیار کیا اور صدارت سے برطرف کیے جانے کے بعد بنی صدر ملک سے فرار ہوگئے۔
انہوں نے ایران سے فرار کے بعد بنی صدر کے مجاہدین خلق تنظیم سے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات حکام کے لیے انقلاب اسلامی کے اصولوں، اقدار اور مقاصد پر قائم رہنے کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے آخر میں تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے خطبے اور صدر اسلام کے واقعات کا مطالعہ انحراف کی وجوہات اور اس کے نتائج کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسلامی معاشرے کو حق کے راستے کی درست شناخت، ولایت کی مرکزیت برقرار رکھنے اور ذمہ داریوں کے لیے اہل افراد کے انتخاب کے ذریعے تاریخ کی تلخ غلطیوں کو دہرانے سے بچنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ